“If the book is true, it will find an audience that is meant to read it.” — Wally Lamb

“You don’t start out writing good stuff. You start out writing crap and thinking it’s good stuff, and then gradually you get better at it. That’s why I say one of the most valuable traits is persistence.” ― Octavia E. Butler

“You can always edit a bad page. You can’t edit a blank page.” ― Jodi Picoult

“Every secret of a writer’s soul, every experience of his life, every quality of his mind, is written large in his works.” — Virginia Woolf

“I can shake off everything as I write; my sorrows disappear, my courage is reborn.” — Anne Frank

Saturday, 26 January 2019

پاکستانی سیروسیاحت کا فروغ

https://democraticpost4u.blogspot.com
harapa and monjodaro
https://democraticpost4u.blogspot.com
Texila budha

پاکستانی سیروسیاحت کا فروغ


پاکستان بلاشبہ ایک خوبصورت دیس ہیں.الله پاک نے مملکت خداداد پاکستان کو بیش بہا قدرتی حسن سے نوازہ ہیں .پاکستان کے مختلف حصے ہیں جن میں جنوبی حصہ صراحی اور خشک ہیں . شمالی حصہ بلند و بلا پہاڑوں اور سرسبز ہیں .مشرق میں دریا اور مغرب میں میدان ہیں.پاکستان دنیا کے لیے مذہبی تہذہبی اور فن کے اعتبار موزو جگہ ہیں. پاکستان کے کچھ شہر جیسے کہ  لاہور ملتان بہالپور فیصل آباد جھنگ ننکانہ صاحب جلھم  چکوال گجرخان راولپنڈی ٹيکسلا حسن ابدال پشاور سوات کوئٹہ  گوادر کراچی حیدرآباد موہنجو دروہ  اور ہڑپہ  تاریحی اعتبار سے دنیا اور مختلف مذہبی فرقوں کے لیا ایک اہم جگہ ہیں.نیز پاکستان میں آثار قدیمہ کے لیا  ٹيکسلا  موہنجو دروہ  اور ہڑپہ  جیسے شہر ہیں جو تاریخ کے طلبہ اور ریسیرچرز کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں
پاکستان سیروسیاحت کےلئےایک بہترین جگہ ہیں.اگرماضی پرنظرڈالی جائیں توتاریخ ہم کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ پاکستان کبھی دنیا کےلیا سیروسیاحت کا مرکز تھا.لاہورکی بسنت کا بہالپوراورملتان ٹورکاراور جیپ ریلی کا.پنجاب کےثقافتی لوک میلوں کااورشمالی ٹورازم کا.پاکستان ساٹھ، ستراور نوے کی دہائیوں میں ٹورازم کےلیا ایک اچھا مقام تھا. پھرجیسےاس ملک کو نظرہی لگ گئی.سرد جنگ اورپھردشت گردی کی جنگ پاکستان میں سیروسیاحت کے خاتمے کا سبب بنی. اکیسوی صدی جس میں دنیا کوگلوبل ولیج کا نام دیا گیا جہاں ٹیلی رابطوں اورانٹرنیٹ نے دنیا میں فاصلے کم کیے اورلوگوں میں رابطے بڑھے اس وقت سیاحوں کا پاکستان نا آنا دنیا میں ہماری گمنامی کا سبب بنا.پاکستانی ٹورازم کو دوسروں کی جنگ اوراپنوں کی غلطیوں وجہ سے کافی نقصان ہوااورنتجہ ہماری معیشت کے نقصان کی صورت میں دیکھنے کو ملا
https://democraticpost4u.blogspot.com
galgit baldistan
https://democraticpost4u.blogspot.com
budha  at Texlia pakistan
https://democraticpost4u.blogspot.com
polo  chatral pakistan

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے سیروسیاحت کے فروغ کے لیے ایک پالیسی مراتب کی. جس کا اعلان کچھ دن پہلے ہوا.جس میں ویزا سروس سسٹم کو نرم اور آسان کر دیا گیا .جوکےایک خوش آیند قدم ہیں .اس سے پاکستان کا ایک مثبت چہرہ دنیا کے سامنے آے گا اور وہ  لوگ جوپاکستان کوایک دشت گرد ریاست ثابت کرنے کےلیا سرگرم ہیں ناکام ہوگے.سیروسیاحت کا فروغ سے پاکستانیوں دوسرے لوگوں کے درمیان آمنا سامنا ہوگا جس سے فاصلےکم ہوگے اورغلط فہمیاں دورہوگی. سیروسیاحت کسی بھی ملک کی معیشت کوبہترکرنے میں ایک اہم کردارادا کرتی ہیں، جس کی واضح مثالیں یورپ کینیڈا,امریکا اور آسٹریلیا ہیں .جبکے مشرقی اشیا ممالک بھی اب ٹورازم کو فروغ دی رہے ہیں.آج کے دور میں سیروسیاحت ایک صنعت کے طورپرسمجی جاتی ہیں اورحکومتیں اپنے ملک کی سیروسیاحت میں سرمایا کاری کرتی ہیں.لندن سنگاپور اور کچھ دوسرے ممالک اس کی بہترین مثالیں ہیں . برطانیہ کا شہر لندن اکانومی کا جی ڈی پی ١4% سیروسیاحت سے حاصل کرتا ہیں.

سیروسیاحت بلا شبہ ایک اچھی صنعت ہیں اور پاکستان کی سالانہ آمدن میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں .حکومت کا یہ قدم  خوش آیند ہیں .لیکن اس کو کامیاب بنانے کے لیا کچھ عملی اقدامات کی ضرورت ہیں .کیوں کہ سیروسیاحت کے ساتھ اور بھی شعبے اگر کام کریں تو کامیابی ملتی ہیں جیسے کہ ریسٹورنٹ  ہوٹلز ٹرانسپورٹ  ٹورازم گائیڈ  انفارمیشن کے ذارئع سیکورٹی اورتعلیم.اگر دیکھا جائیں تو پاکستان میں سیکورٹی کا نظام  بد سے بد تر ہوتا جا رہا ہیں واضح مثال ساہیوال کا واقعہ اور پچھلے سال  مری میں سیاحوں کے ساتھ  نارواه سلوک .جس کا حکومتوں نے کوئی عملی ایکشن  نہیں لیا. سیروسیاحت کے فروغ  کے لئے حکومت کو عملی اقدام کرنے ہو گے .جن میں ضروری  معلومات کو عام کرنا سیکورٹی کو بہتر کرنا  ریسٹورنٹ  اور ہوٹلز کی حالت کو بہتر کرنا  اور عوام اور پولیس کو سیاحوں سے بہتر برتاؤ کی تعلیم دینا.اگر حکومت یہ سب اقدام کرتی ہیں تو  سیروسیاحت کا یہ منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہیں . کیونکہ پاکستانی قوم مذبی طور پر جذباتی ہیں

Sunday, 20 January 2019

الیکٹڈ یا سلیکٹڈ

الیکٹڈ یا سلیکٹڈ


سلیکٹڈ کےالفاظ پیپلزپارٹی کےشریک چیئرمین بلاول زرداری نے پہلی باروزیراعظم عمران خان کے لیےاستعمال کیے. کافی لوگوں کو ان الفاظ کی کافی دیربعد سمجھ لگی .حریف جماعتوں نے شروع دن سے ہی عمران خان کو جموری وزیراعظم نہیں سمجتھی .خیر یہ پاکستان میں ہرحریف جماعت کرتی ہیں  جو ایک غیر جموری قدر ہیں.حکومت کی چھ ماہ کی اگر کارکردگی  کو دیکھا جائیں تو صرف وعدے اورامیدیں ہی نظرآ رہی ہیں.آے دن حکومتی نمایدے ہم کو یا تو حریف جماعتوں کو جیل میں ڈالنے کی بات کرتے نظرآ رہے ہوتے ہیں اور یا پھر فلا ملک سے کچھ مالی مدد کی امید کی نوید سنا رہے ہوتے ہیں.عملی طورپرکوئی اقدام نظر نہیں آ رہے .اقتصادی وزیرچھ ماہ سےباتیں ہی کررہے ہیں.حلانکے شکل سے توکافی پڑھےلکھےاور سمجھدارمعلوم ہوتے ہیں.اور جب گورنمنٹ میں نہیں تھےتوروز ٹی وی پرمعاشیات پرلیکچرزدیتے تھے.لیکن عملی طورپرناکام اور بےبس نظرآ رہے ہیں.جبکے معیشی پالیسی بنانے میں کوئی پیسہ نہیں خرچ ہوتا.کم سے کم کوئی راہ ہی دیکھا دیں. جو ملک کومعیشی لحاظ سے مضبوط بنانے میں کارگر ثابت ہو. اس کےعلاوہ حکومت جس کام کوبڑی ایمانداری سے کر رہی ہیں وہ ہیں قبضہ گروپ کے کیحلاف آپریشن جس میں مزدورہی  مار کھا رہا ہیںاو رجعلی اکاؤنٹس والے تو ٢٠% وصولی دے کر اپنا دھن سفید کر رہے ہیں

امن و امان کی بات کی جاۓ یا حکومتی وزیروں کی تو ایسے لگ رہاکہ یہ سب تووہی ہیں جو پیپلز پارٹی  یا نوں لیگی ہیں.لیڈرشپ کا اثرتوکہی نظر نہیں آ رہا .فیاض چوہان ویسے ہی بونگیا مر رہے ہیں جیسے عابد علی مارا کرتےتھے .اور راجہ بشارت نے تو پنجاب میں رانا ثناء اللہ خان‬‎ کی یاد دلا دی.اورعمران خان نے آج تک کوئی نوٹس نہیں لیا. امن وامان کی صورت حال دیکھ کرتوڈر لگ رہا ہیں کہی کسی کی گولی کا نشانہ نہ بن جائیں اوردودن پہلے تو حد ہی ہوگئی جب لاہور سے بورے والا سفر کرتے ہوۓ ایک خاندان سیکورٹی اداروں کی گولیوں کا نشانہ بن کرجان با حق ہو گیا.اب تحقق بھی ہوگی .لیکن اتنے بڑھے حادثے پر ابھی تک کوئی بیان نظر نہیں آ یا.نہ کوئی حکومتی اور نہ ہی سیکورٹی اداروں کی طرف سے معاملہ کیا ہیں کس نے حکم دیا گولی مارنے کا اورکس نے رپورٹ کی تھی.عمران خان صاحب ،عثمان بزدار صاحب کوئی تو جواب دے.کیا قصور تھا مظلوم خاندان کا کیوں ایسے بے دردی سے مارا .عمران خان کی حکومت ہیں پنجاب ہیں جناب اگرعوام کی ووٹ سے گورنمنٹ بنائی ہیں پھر تو جواب دینا پڑے گا.ہاں اگر بقول بلاول زرداری کے سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں تو چپ رہے .آپ  کی چپ کافی ہیں سمجھنے لیا آپ کے دل کا حال.اوراگرالیکٹڈ یا منتخب ہیں تو جناب عملی اقدامات کریں ،حقیقت عوام کے سامنے لے کرآیئں .ورنہ آپ کی خاموشی بلاول کی پیش گوئی کوسچ ثابت کردے گی 

Tuesday, 15 January 2019

احتساب کا ڈھول ڈم ڈم


 احتساب کا ڈھول ڈم ڈم


ہر گورنمنٹ پاکستان میں احتساب کا کھیل کھیلتی ہیں. سواۓ پاکستان پیپلز پارٹی ہیں.دیکھا جاۓ تواس ملک میں کبھی احتساب ہوا ہی نہیں ، صرف احتساب کے نام پر ڈرامہ ہی ہوا ہیں.اوراگر پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنے دور میں احتساب کا بل پاس کیا ہیں اوراحتساب کیا ہیں تو وہ صرف سیاسی مخالفوں کا .وہ احتساب ذاتی تھا .اور کچھ تو اپنی طاقت کے اظہار کے کچھ نہ تھا جس کی واضح مثال١٩٩٦ کی فوجی عدالتیں جو بجلی چوری اور کرپشن کے خلاف تھیں.باقی ٢٠١٣ کی گورنمنٹ میں تو احتساب کا ڈھول ڈم ڈم ہی بجتا رہا جناب زرداری اور پیپلز پارٹی کے کیحلاف .نواز لیگ کا انٹی کرپشن قانون خود آج شہباز شریف کے لیے ہی الٹا پرا ہوا ہیں.ایک جماعت جس کے احتسابی ڈھول کی تھاپ پورے ملک میں سنائی دی رہی ہیں اور لگتا ہیں یہ لوگ آے ہی اسی لیا ہیں.پاکستان تحریک انصاف نواز لیگ کے احتسابی ڈھول کو خوب بجا رہی ہیں .ایسے لگ رہا ہے جیسے اس حکومت نے کوئی اورکام نہیں کرنا صرف احتساب ہی کرنا ہیں .

احتساب سب کا ہونا چایئں.جس نے بھی اس ملک کو لوٹا ہیں ہر اس انسان کا جس نے کرپشن کی ہیں.لیکن جو یہ گورنمنٹ کر رہی ہیں وہ کئی سے بھی احتساب نہیں لگ رہا .بلکہ اسے وقت کا زیاہ کہا جائیں تواچھا ہیں.کیونکہ آج چھ ماہ ہوگیں ہیں اس حکومت کو اقتدار میں آے ہوۓ .نا ایوان بالا میں کوئی بل پیش ہوا اورنا ہی ایوان زیریں ہیں اوراگرکوئی غلطی سے پوچھ لیں تو جناب عمران خان صاحب فرماتے ہیں ہمارے پاس ایوانوں میں اکثرت نہیں ہیں.تو جناب اس کا مطلب ہیں آپ عوام کے ساتھ احتساب کا ڈرامہ کر رہے ہیں اور نیب کے ذریعے کچھ لوگوں کا جینا حرام کر رہے ہیں .آپ کس قانون کے تحت کاروباری لوگوں کے اکاؤنٹس چیک کر رہے ہیں .خیر یہ تو اس ملک کا الیمیاه  ہیں کہ عوام کوکوئی جتنا بھی تنگ کرلیں کوئی پوچھنے والا نہیں اورناعوام کو قانون کی آگاہی ہیں اورنا ہی کوئی اس حق کو جاننے کی کوشش کرتا ہیں


 گورنمنٹ کو چایئں کہ اپنی توجہ پاکستانی عوام کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے میں دیں.کاروباری طبقہ تو پس کررہ گیا ہیں .ڈالر کا ریٹ آپ سے کنٹرول نہیں ہو رہا.صنعت کا پہیہ توآپ کی غلط پالیسی کی نظر ہوا ہیں .آج تک تو پاکستان تحریک انصاف کی معیشی پالیسی کا ہی پتا نہیں چل سکا.سواۓ انڈے  مرغی اور کٹے پالنے کے.جبکہ عمران خان ہم کو پچھلے دس سالوں سے ایک قابل اکنامسٹ اسد عمر کا نام سنا سنا کر پاگل کیا ہوا ہیں.ہر کوئی جانتا تھا پاکستان تحریک انصاف گورنمنٹ بناۓ گی اسد عمر اقتصادی وزیر ہو گے.اس کے باوجود کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی .شروع کے چھ ماہ سے تو احتساب کا ڈھول ہی بج رہا ہیں.اور ڈھول کے اس شور میں کہی پاکستان تحریک انصاف ہی نہ گم ہو جائیں  ہم عوام کو عمران خان سے کافی امیدیں ہیں.قانون کی بلا دستی اورانصاف پاکستانی عوام کا حق ہیں.لیکن کچھ سیاسی اورغیر سیاسی طاقتیں شاید عمران خان کو یہ سب نا کرنے دیں اور وہ کچھ حد تک کامیاب نظرآ رہی ہیں.کیونکہ ظلم اور نا انصافی اس ملک کے ساتھ سب نے کی ہیں وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی. عوام کا حق سب نے لوٹا ہیں.عمران خان کی نیت میں کوئی پاکستانی ذرا برابر بھی شک نہیں کر سکتا.لیکن ان کے کچھ  وزیراور بیوروکریٹس جوخود بھی چور ہیں عمران خان اورعوام کو دھوکہ نہ دیں جائیں اور پاکستان میں احتساب اورانصاف کا جو خواب عمران خان نے پاکستانی عوام کو دکھایا ہیں وہ نام نہاد احتسابی ڈھول کی ڈم ڈم میں ادھورا ہی نا رہ جائیں کیونکہ احتساب کا جو ڈھول تحریک انصاف بجا رہی ہیں وہ وقتی ہیں.جس سے ملک کا معیشی اور سیاسی نظام کمزورہو گا اور  یہ نہ ہو فائدہ بگ باس ہی اٹھا لے پہلے کی طرح.

Wednesday, 9 January 2019

کاروباری سوچ


کاروباری سوچ


 ایک اندازے کےمطابق پاکستان میں ہرسال چارلاکھ پچاس ہزار طلبہ و طالبات ڈگری حاصل کرتے ہیں.جس کا مطلب اتنی ہی نوکریاں مہیا کرنا حکموت کا فرض ہیں.پاکستانی یونیورسٹیز اور کالجز کا نظام دیکھا جائیں تو شروع دن سے ہی آنے والے طلبه اور طالبات کواچھے نمبروں کی تلقین کرنا اور صرف وہی کچھ گائیڈ کرنا جس سے وہ زیادہ سے زیادہ نمبرز حاصل کر سکے .آج کل تو چار سالہ کورسز کی بہرمار لگی ہوئی ہیں ایک سے ایک یونیورسٹی مہنگے سے منہگا کورس ہرسال لے کرآتی ہیں.پھر کیا ہوتا ہیں جناب چوتھے سال کے آخر میں ایک چار سے چھ ماہ کی کسی ادارے میں انٹرنشپ یا پھر کوئی ریسیچ مضمون لکھ کر ڈگری ہاتھ میں اور سٹوڈنٹ گھر .پھر جاب ملے تو اچھی قسمت  نہ ملے تو الله کی مرضی .سارا الزام گورنمنٹ پر یا بچے کے کم نمبرز پر.ہماری ملک میں یونیورسٹیز صرف اکیڈمک  مضمون پڑھا کر سائیڈ پر. حلانکے ڈگری لیول پر یہ یونیورسٹی کا ہی فرض ہوتا ہیں کہ وہ وہ سٹوڈنٹز کو کاروبار کی سوچ کے لیا آگاہ کرے .بدقسمتی سے پاکستان صرف ایک یونیورسٹی لمس اپنے سٹوڈنٹس کے لیا یہ پروگرام چلا رہی ہیں باقی صرف ذیادہ سے ذیادہ انٹرشپ تک ہی ہیں.

بات کی جائیں باقی دنیا کی تو حالات بلکل برعکس ہیں یونیورسٹیز تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے طالبعلموں کو جابز اور   کاروبار دونوں کے لیا ایسے اتنظامات کرتی ہیں جیسے کہ کاروباری افراد یونیورسٹیز میں آہ کر لیکچردیتے ہیں جوطالبعلموں کی ایک اچھی حوصلہ افزائی ہوتی ہیں اور پھر کورس ورک میں ایسے کامیاب کاروباری افراد اور ان کے کاروبار کے متعلق لیکچر ہوتے ہیں جو کہ طالبعلموں کے   خیالات بدلنے میں کافی کارگر ثابت ہوتے ہیں کہ امیدوار اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے کی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر چکا  ہوتا ہیں.اور پاکستان میں طالبعلم ایک ڈگری ختم کرنے کے بعد مزید ڈگری کا سوچ لیتا ہیں .جو کہ ایک اور غلط فیصلہ ہوتا ہیں.اس سب کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی کہی جا سکتی ہیں

پاکستانی طالبعلموں میں کاروباری سوچ کا کافی فقدان ہیں وہ جابز کو کاروبار پر زیادہ اہمیت دینا پسند کرتے ہیں اور وہ بھی سرکاری نوکری کو.جس کے حصول کے لیا وہ کافی سال بھی گزر جائیں تو کوئی برائی نہیں لیک کرنی سرکاری نوکری ہی ہیں .یاد رکھے نوکری ایک خاندان اور کاروبار نسلوں کو پالتا ہیں.
 کاروبار پاکستان میں صرف بڑی انویسٹمنٹ  کا ہی نام ہیں .کوئی جنرل اسٹور، بیکری، کیفے و ریسٹورنٹ  بزنس کی لسٹ میں نہیں آتے.حلانکے کام چھوٹے سے بڑا ہوتا ہیں.لیکن یہ سب سمجھنے کے لیا کوئی راضی نہیں.پاکستان میں میں کاروباری سوچ کا فقدان اس ملک کے مستقبل کے لیا اچھا نہیں ہیں اس کا نہ ہونا ہماری معیشت کے لیا نقصان دہ بات ہیں.اپنا کام انسان کو دوسرے کی غلامی سے بچاتے ہیں اور زندگی آسان بناتا ہیں.اور اس دنیا میں ہربڑا کاروباری فرد چاہ وہ بل گیٹس ہو، ملک   ریاض یا پھر ہندوستان کے دھیرو بھائی امبانی سب کی کہانی ایک جیسی ہی ہیں.آج اگر دیکھا جائیں تو زہین اور پڑھا لکھا انسان نوکری کرتا ہیں ان کاروباری افراد کے لیا.بات صرف سوچ کی ہیں جو دو انسانوں کا مختلف کرتی ہیں مالک یا نوکر بننے کے لئے.آج کل انٹرنیٹ کا دور ہیں ہر چیز کی انفارمیشن  گوگل پر ہیں اگر آپ کو کوئی نصحیت نہی کر سکا تو جناب آپ کچھ وقت  انٹرٹینمنٹ سے ہٹ کر گوگل پر جا کر سیارچ کریں تو ہزارروں  راستے ملے جائیں گے آپ کو کاروبارکے.اور اگر اعتماد کی کمی ہیں تو کامیاب کاروباری افراد کی بائیو گرافی پڑھیں انشاللہ ضرور راستہ ملے گا آپ کو. اوراپنی ناکامی یا وقت  کے زیاہ ذمہ واری کا رونا رونے کی بجاے کوشش کریں.اصل بات کسی چیز کی قدر یا اہمیت ہوتی ہیں .ناکامی یا کامیابی انسان کی بنائی ہی سوچ ہیں     

Monday, 31 December 2018

آخری دن سال آخری دن سال کا کا

آخری دن سال کا

 
آج سال کا آخری دن پھر٢٠١٨ کبھی نہ آے گا.اوراس طرح دنیا کا ایک اورسال مکمل گیااورزمین نے ایک اورچکرپورا کر لیا. .دیکھا جاۓ تو ہرگزراوقت ہم کواحساس دلاتا ہیں انسانی زندگی کا اوراس کے گزرجانےکا.کافی انسان وقت کےاس احساس کو سمجتے ہیں اوربہت سارے پچھلے سالوں کی طرح آنے والے سال کو بھی ایسےہی گزردے گے.سھمجدارلوگ اپنے وقت کا حساب رکھتے.اپنی غلطیوں کو صیحی کرتے ہیں اوراپنی آنے والی زندگی آرامدہ کرنے کے لیا کوشش کرتے ہیں.با حثیت ایک مسلمان ہم قسمت اور نصیب پرزیاده یقین رکھتے ہیں لیکن کچھ لوگ اپنی سوچ و چارسے بھی اپنی زندگی بدلنے کی کوشش میں رھتے ہیں اوربدل بھی لیتے ہیں

جس طرح انسان ذاتی زندگی کواچھا کرنے کی کوشش میں رہتا ہیں .قومی سطح پربڑے ممالک بھی منصوبہ بندی کرتے ہیں .چاہے وہ معاشی،سماجی یا کاروباری سطح پر ہو.ہرچیز کا ایک منصوبہ ہوتا ہیں.جدید دنیا میں توحکومتی سطح پرایک خاص قسم کا ادارہ کام کرتا ہیں جسے ریسیچ اینڈ ڈویلپمنٹ یعنی تحقیق اورتعمیرہم اپنی زبان میں کہہ سکتے ہیں جو صرف آنے والے وقت کا استعمال کرسکے کے لیا بنایا جاتا ہیں.دورجدید کی دنیا کی اصل کامیابی کی وجہ بھی یہ منصوبہ بندی ہی ہیں جس کی وجہ سے وہ زندگی کے کرمیدان میں آگے ہیں اور وہ دنیا کو ایک نظام دے رہے ہیں.اورایسی قومیں ہی دنیا میں اپنا نام پیدا کرتی ہیں

پاکستان کی بات ہوجاۓ جو دنیا میں آبادی کے حساب سے نمبر ٨ پر ہیں.یعنی دنیا کی آٹھویں بڑی لیبرطاقت.جہاں ملک نے ایٹومک پاور حاصل کیا بھی ٣٠ سال ہو گی ہیں.جہاں ١٢٠ یونیورسٹیز ہیں ١٢٠٠٠ طلباء اورطالبات ہرسال گریجویٹس ہوتے ہیں ،جہاں کی سب سے بڑی صنعت ایگریکلچر ہیں .پھرملک میں معدنیات کے ذخائر ،پھر سیرو سیاحت  کے لیا مقامات،صحرا ،پہاڑ ،دریا،قدرتی جنگل اور لاہور ملتان سندھ اور ٹیکسلا کے قدیم عجوبے.اس کے باوجود پاکستان کا شمار تیسری دنیا میں ہوتا ہیں.جہاں آبادی کا ٦٠% فیصد  حصہ ایک وقت کی روٹی بھی نہیں کھاتا.جہاں سب کچھ ہیں،لیکن بھوک اور افلاس ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہی.اس کی بڑی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان اور کرپشن ہیں.کچھ لوگ ملک کی دولت پر قبضہ ہیں.یہ وہ نالایق ٹولہ ہیں جو ملکی دولت کو وقت با وقت  لوٹ کر لے جاتا ہیں.جن میں تین قسم کے لوگ آرام سے دیکھے جا سکتے ہیں .خیر ہم بات  منصوبہ بندی کی کر رہے تھے .ایک وقت تھا جب ایک حکمران جسے ہم ایوب خان کے نام سے جانتے ہیں.اس نے پہلی بار پاکستان میں پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا .١٩٥٥ سے  .١٩٦٠ پھر دوسرا  پانچ سالہ منصوبہ ١٩٦٠سے ١٩٦٥.اس  پانچ سالہ منصوبہ کی وجہ سے پاکستان نے ٢٠% دولت کمائی .یعنی ٢٠%  آمدنی اضافہ کیا ،دس سالوں میں پانچ ڈیم بنے. زرعی اصلاحات ،پرائیویٹ بنکنگ  اور صنعت کو ترتیب دیا .پاکستان کا یہ پلان کاپی ہوا کوریا اور جرمنی میں .لیکن ایوب خان کے بعد پاکستان میں  پانچ سالہ منصوبے آگے نہ چل سکے .جس کی وجہ آنے والی حکموتوں کی  ذاتی رنجیشے ،عقل کی کمی اور منافقت بھی کہی جا سکتی ہیں .جس کا نتجہ آج ہم ٥٠ سال بعد بھی تیسری دنیا میں شمار کیے جاتے ہیں.ملکی ترقی کے لیا ایک قوم بننا ضروری ہیں.    

Saturday, 29 December 2018

آئس کا مزہ


آئس کا مزہ


آئس جس کا مطلب تو برف ہیں ٹھنڈی ٹھنڈی ہم پانی ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا پھر برف کے رنگا رنگ لال پیلے  گولے اورفالودے میں  ڈالتے ہیں اور گرمیوںکی شدت کوٹھنڈہ کرتے ہیں .آج کل پاکستان میں گرمی ہو یا سردی ہر طرف آئس ہی آئس زیربحث ہیں.پچھلے ایک دو ہفتوں سے آئسکا چرچا خوب ہو رہا ہیں ہمارے میڈیا میں تواس آئس کو ذکر ایسے ہو رہا ہیں جیسا مارکیٹ میں کسی نئی برانڈ کی آمد ہوئی ہو.پھرکچھ دن پہلے ایک سفرمیں جب ٹیکسی ڈرائیورنے پوچھا صاحب یہ آئس کیا چیز ہیں تو جواب میں ڈرائیور سے پوچھا جناب آپ نے آئس کا نام کہا سنا تو جواب ملاکہ اسکول کی طلبہ فون پراپنی دوست سے آئس کا ذکراپنی دوست سے کر رہی تھی اوراسکول میں لانے کا بول رہی تھی .خیرگوگل سیارچ انجن پر ذرا سی جانچ پڑتال کی تو پتہ چلا یہ جو آئس ہیں وہ کوئی ٹھنڈی چیز نہیں بلکے ایک گولی ہیں جوپاکستان کے ہربڑے شہر کراچی ،لاہور، راولپنڈی،اسلام آباد سے پشاورتک مل رہی ہیں.اورھمارے طلبه اور طالبات اسکول سے لے کر کالجز اور یونیورسٹیز تک اس آئس نامی گولی کے دیوانے پن میں مبتلا ہیں.آئس ہیں کیا اور کیوں استعمال ہوتی اوراس لعنت کوکس نے متراف کروایا اس کا ذکر آگے چل کر کرتے ہیں
 

کرسٹل میتھ ایمفیٹامین،کرسٹل میتھ، شابو، کرسٹل گلاس، شارڈ  یہ سب آئس کے مختلف نام ہیں جو اس کو استمعال کرنے والے جانتے ہیں اورآرڈر کرتے وقت استعمال کرتے ہیں.آئس a stimulant drug  مطلب ایک محرک منشیات.لو جی جس کو ہم ٹھنڈاسمھج رہے تھے وہ تو ایک نشہ اورگولی نکلی.جس کا مطلب اور استعمال ہمارے جسم اوردماغ کے درمیان میسج کے عمل کومعمول سے تیزکرنا ہیں.جس کا باقدگی سے استعمال انسان کواس کا عادی کر دیتا ہیں .چونکہ یہ ایک سخت نشہ آور گولی ہیں تو اس کے  ضمنی اثرات زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں.یہ گولی میتھ ایمفیٹامین نامی پاؤڈر یعنی عام نشے سے  زیادہ نقصان دہ ہیں. آئس کے استمال کے مختلف عمل ہیں جیسے کہ انجیکٹ کرنا ،نگلنا،سگریٹ نوشی میں استعمال کرنا وغیرہ.ہماری سائنس اور طب اس قسم کے نشہ یا کسی بھی  اور نشے کے متعلق نرم گوشہ نہیں رکھتی.ایکسپرٹس کا خیال ہیں کہ یہ نشہ انسانی میسج سسٹم کوتیز کرنے کے ساتھ سونے کے عمل میں خلل ڈالتا ہیں.باقی اپنے پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافے کے یہ

 https://adf.org.au/drug-facts/ice/  بلاگ کا لنک ہیں .جوآپ کو 


    

Image result for ice drug


سمجنے کے لیا دیا گیاہیں
 

اب ذرا ذکر ہوجاہے ریاست کا جس کا کام عوام کی  فلاح و بہبود ہیں. ریاست ایک غیرقانونی کام  جواس کی ناک کے نیچے ہو رہا تھا اور اور اب بھی ہو رہا ہیں. جس کا ذکرآج اتنا عام ہیں اور بچے بچے کی زبان پرہیں جس کا ذکر ڈاؤن  اخبار نے ٢ جون ٢٠١٧ اورڈیلی پاکستان آبزرور Daily Pakistan Observer نے ٢٠١٨ جولائی میں اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہیں .کیا یہ خبر کسی قانون نفاذ کرنے والے ادارے کی نظر سے نہیں گزاری یا اس میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں نظر آیا.کیسے ڈرگ مافیا اور پاکستان کے اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز میں یہ نشہ بک رہا ہیں اور وہ بھی ٢٠٠٠ اور ٣٠٠٠ ہزارپاکستانی کرنسی میں.کون ہیں جو یہ نشہ ہماری ینگ نسل میں پھیلا رہا ہیں .اسلام آباد سکولز کی کنٹینز سے اس گولی کا ملنا ایک واضح ثبوت ہیں کسی کی سرپرستی کا اورسکولز کی انتظمیا کا بھی جو یا تو نظر چوراہ رہے ہیں یا پھراس جرم میں وہ بھی شریک ہیں.اس کی ضرور جانچ پڑتال ہونی ضروری ہیں.اور آج کل ھمارے قانونی ادارے اور خاص کر جناب چیف جسٹس صاحب کرپشن ،ڈیمز اور بحریہ ٹاؤن ملک ریاض کی جان چھوڑکراس طرف کچھ توجہ دیں.اپنی نئی نسل کو اس لعنت سے دورکریں یہ کرپشن سے بھی بڑا جرم ہیں. عمران خان کی حکمومت کے وفاقی وزیر  جناب آفریدی صاحب سے گذارش ہیں کہ پاکستان کے اسکول ،کالجز ،یونیورسٹیز اورکچھ و اسکول کے بچوں کےوالدین کو بھی سزا و جرمانے کریں .ٹیچرز کے ساتھ والدین بھی ذمدار ہیں.آئس جس کو ہماری نوجوان نسل صرف فن یعنی مزہ کا نام دے کر لطف و اندوز  ہو رہی ہیں.آئس مزہ نہیں ایک قاتل ہیں خاموش قاتل.
  

     .

Friday, 28 December 2018

عدالتی فیصلہ آگیا

عدالتی فیصلہ آگیا


نوازشریف پھر جیل چلےگے.جس کے ساتھ ساتھ ڈیل کی خبریں بھی دم تھوڑ گئی.جن کی بازگش فیصلے سے پہلےاسلام آباد سےآ رہی تھی.لیکن نواز شریف نے لگتا ہیں اس بار کوئی ڈیل نہ کرنا ہی بہتر سمجا اور جیل جانے کو ترجہی  دی اور ملک میں ہی رہنا بہتر سمجھا. سیاسی اعتبار سے ایک اچھا فیصلہ ہیں.اگر ڈیل ہو جاتی جوکہ حکومت کے لیا ضروری تھی .کیونکےحکومت کی اپنی کارکردگی کمزور سے کمزور ہیں .کوئی معاشی پالیسی سوا بیان بازی کے نظر نہیں ے رہی اور اپوزیشن کی ایک کال عوام کو روڈز پر لانے کے لیا  کافی ہیں اور  ویسے بھی نواز شریف صاب کا کیس دیکھ کر بھی اس کوسمجھاجا سکتا ہیں .بدعنوانی کھربوں کی اورجرمانہ اور٧ سال کی.ال-عزیزیہ اورفلیگ شپ کیس میں نوازشریف کو ٹوٹل چارارب کا جرمانہ اور سات سال کی قید بظاھر قانون اورعوام دونوں کے ساتھ مذاق سا لگتا ہیں .ایک طرف ٣٥ سال سے بدعنوانی کا الزام اورثابت صرف ٤ارب کی  بدعنوانی.احتساب عدالت کے اس فیصلےکا سراسر فاہدہ ہم عوام کوتوکچھ نہیں ہوا .البتہ عمران خان کی گورنمنٹ کو پنجاب میں کچھ سکون ضرورمل گیا ہیں .اور لگ بھی کچھ ایسا ہی رہا ہیں اورپانچ سال بعد نواز شریف صاب پھر سے ایوان اقتدار میں ہوں گۓ .اور قانون عوام اور سسٹم ویسے کا ویسا ہی رہے گا
 

نواز شریف کیس کا فیصلہ پاکستان کےعدالتی یا قانون کی کمزوری کا واضح آینہ ہیں جو آج بھی فیصلے قانونی نہی مفاہمتی کر رہا ہیں.ایسے فیصلے کسی فرد کو فاہدہ دیتے ہیں ملک یاعوام کو نہیں اور نہ ہی ملک کو ایک نظام ملتا ہیں .آج بی اسی نظام کے تحت مشرف آزاد ہیں.ڈاکٹر عاصم ٤٦٠ ارب کی کرپشن کے بعد بھی آزاد ہیں.اور پاکستان تحریک انصاف کی گورنمنٹ جو عدل و انصاف اورکرپشن سے پاک نظام کا نعرہ لگا کراقتدار کے ایوانوں میں آئی ہیں .اب تک کرپشن کے خلاف بل میں نہ لا سکی .پرامید ہیں عدالت اس کا حکم بھی جاری کرے گی .کیونکے کہ  آج کل حکم کہی سےآ کر ایوان میں پاس ہوتے

Monday, 24 December 2018

گلگت کی آواز

گلگت کی آواز

     
گلگت بلتستان کو صوبہ کا حق پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ملا.گلگت بلتستان کی حدود کو دیکھا جاتے تو یہ پاکستان کے شمال میں ایک خوبصورت وادی ہیں جس کا منزل دلکش ہیں.بلند و بلا پہاڑ اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے  ہیں.ہر وہ جگہ جہاں پہاڑ ہو برف باری ہو .وہ ایریا ویسے بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہوتا ہیں .سردیوں میں سخت سردی ہوتی ہیں اور گرمی میں تو ایسے علاقے پانی کے شور سے  اور موسّم میں سردی کی شدت کمی کی وجہ سے رہنے کے لیا خوش گوار  اور صحت افزا تصور کیے جاتے ہیں

گلگت بلتستان کی آبادی آغا خانی فرقے سے تعلق رکھتی ہیں اور باقی کچھ شیعہ اور سنی بھی آباد ہیں گلگت کو ایسے  انتظمی بنیاد کی  وجہ  سے خود مختار کیا گیا تھا .جبکے دکھا جائیں تو اس خود مختاری کا عوام کی حالت زار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑہ.عوام کی حالت اب بھی نہیں بدلی .آج بھی گورنمنٹ کے اسکول فنڈ کی کمی کی وجہ سے نہ چلنے کے قبل ہیں اور ہسپتال لوں کی حالت بھی غیر تسلی بخش ہیں .جو ہسپتال آغا خان کی فنڈنگ سے چل رہے ہیں.ایسا لگتا ہیں جیسے گلگت بلتستان آغا خان کی ذاتی جاگیر ہو.یہ کام  گورنمنٹ کا ہیں نہ کے آغا خان کا.اگر آغا خان نے ہی سب کچھ کرنا ہیں تو پھر اختیار بھی آغا خان کو ہی دی دیا جائیں.

گلگت بلتستان جو کہ ایک سیرو سیاحت کے لیا پرفضا مقام ہیں حکومت کی غلفت کی وجہ سے اپنی حیشت دن با دن کھوتا جا رہا ہیں ویسے بھی  بقول عمران خان کہ ہم کو ملک کے دولت اکھٹی کرنی ہیں تو جناب ٹورازم آپ کو جتنی دولت دی سکتا ہیں اپ مانگ کر نہیں پوری کر سکتے .گلگت کا شندورمیلا جس میں پولو کا کھیل کافی مہشور ہیں اورعالمی سطح اپنی پہچان رکھتا اور دنیا بھر کے ٹورسٹس سال بھر اس کے شروع ہونے کے انتظار میں رہتے ہیں .گورنمنٹ ہ پاکستان کے اس حصے کو اپنا سمجے اوراس ایریا کو ڈیولپ کریں .یہ ایریا پاکستان کے ٹورازم کو  آگے لے جا سکتا ہیں .گرمیوں میں اس جگہ خوب چہل پہل ہوتی ہیں .یہاں ٹورازم کو ترقی دی  جائیں یہاں ڈویلپمنٹ کے پروجیکٹ  کیا جائیں.اگر روڈ کا نظام صیحی ہو گا اسکول بنے گے ہسپتال ہو گے تو فائدہ عوام اور پاکستان دونوں کا ہیں .یہ تھوڑی سی انویسٹمنٹ  انڈوں اور کٹوں سے بھی اچھا منافع دیں گیی. علمی ٹورسٹ  کو جب ٹور میں  کوئی چیز اچھی لگے تو وہ اس کا ذکر  آگے ١٠ لوگوں سے کرتے ہیں .جو ہمارے اس  ایریا کو پروموٹے کرنے  لیا ایک اچھی کاوش  ہو سکتی ہیں .حکومت کو اس علاقے کی ترقی کا فوری سوچنا ہو گا نہ صرف  اس کا بلکے ہراس علاقے کا جہاں سیرو سیاحت کی جاسکتی ہیں

Saturday, 22 December 2018

لو پھرآئی بسنت


Image result for pakistani kites
 Image result for pakistani kites

                                                                                                                                                          

لو پھرآئی بسنت

بسنت یعنی کے پتنگ بازی .پتنگ بازی پنجاب کا ایک کلچرل تہوار ہیں .جو ہندوستان کا پنجاب ہو یا پاکستانی پنجاب دونوں اطرف میں بڑھے شوق اور  جذبے سے موسم بہارکےشروع میں منایا جانا شروع ہو جاتا ہیں.رنگ برنگ کی پتنگیں نیلےآسمان کواور بھی خوبصورت اوردلکش بنا دیتی ہیں.بسنت یا پتنگ بازی کا رواج پنجاب میں مھراجہ رنجیت سنگھ کے دورہ بادشاہت میں شروع ہوا.رنجیت سنگھ اوراس کی بیوی بڑے اتہمام سے بسنت مناتے.اس دن رنگ برنگ کے کپڑے پہنے جاتے.طرح طرح کے پکوان پکاے جاتےاورلوگ سارادن پتنگ بازی کرتے.یوں پتنگ بازی کا یہ تہواررنجیت سنگھ کےبعد بھی پنجاب میں جاری رہااورآج تک اسی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہیں

 


پنجاب کی تقسیم کے بعد بسنت بھی تقسیم ہوگیی ہندوستانی اورپاکستانی پنجاب میں اورلاہورکےعلاوہ قصور،گجراوالا، سیلکوٹ ،گجرخان،راولپنڈی اورپشاورمیں خصوصی طور پر پورے موسم بہارمیں بسنت کا تہوارمنایا جاتا.لاہورنے پتنگ بازی میں خاصی پہچان حاصل کی.اسی اورنوے کی دہائی میں بسنت کے تہوار نے پاکستان اورلاہور کودنیا بھر میں پہچان دی.اورلاہور بسنت کے تہوار سے دنیا بھرمیں جانا جانے لگا.بسنت کے تہوار نے دنیا بھر کے پاکستانیوں اورغیر ملکیوں کی توجہ کو متوجہ کیا. بسنت کے تہوار نے نہ صرف پاکستان کوایک پیچان دی بلکے اس سے پاکستان کی دوسری انڈسٹریز جیسا کہ ہوٹلنگ اور کھانے پینے کوبھی فائدہ دیا.ایک وقت تھا جب مارچ کا پورا مہینہ لاہورسیاہؤں سے بھرا ریتا.پھر یوں ھوا اس تہوارکو شاید کسی سازش کے تحت ناکام کر دیا گیا اوریوں بسنت کےتہوارپرپاکستانی عدالت نے پابندی لگا دی.

 ہماری عدالت نے اس بسنت کے تہوار پر٢٠٠٩ میں جان لیوا تہوارقرا دے کر پابندی لگا دی .بسنت کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بٹھے .کچھ جانیں گی اور یوں ٣٠٠ سالہ بسنت کا تہوار جس نے لاہورکوایک پہچان دی وہ گورنمنٹ اور کچھ انسانی اور منافع خور لوگوں کی وجہ سے ختم ہو گیا .یہ بات بلکل صیحی ہیں کچھ شک نہیں انسانی جان کی قیمت کسی بھی اور چیز سے زیادہ نہیں ہیں.لیکن اگر دیکھا جاہے توعدالت پنجاب گورنمنٹ کو بھی حکم دے سکتی تھی.پتنگ بازی کوایک محفوظ تہوار بنانے میں اورامن وامان کوقائم رکھنا میں. ریاست  کا کام ہی ہوتا ہیں عوام کے کاروبار کو تحفظ دینا .اگر دیکھا جائیں تولاکھوں لوگ اس کاروبار سے جڑے ہوۓ تھے.اس پابندی سے کافی لوگ بے روزگار ہوۓ .نہ صرف لوگ باروزگار ہوۓ بلکہ وہ سیاح جو ہر سال صرف بسنت کا تہوار منانےلاہور آتے تھے وہ سلسلہ بھی تمام ہوا.اور یوں جولاہورعالمی دنیا کی توجہ کا مرکز تھا.ہماری گورنمنٹ آف پنجاب کی بری انتظمیہ کی وجہ سے زوال پذیرہو گیا.اوراگرلاہورہائی کورٹ کچھ دیر کی پابندی کے ساتھ گورنمنٹ کو حفاظتی اقدامات کا نوٹس دیتی تو یہ تہوار آج اپنی پوری شان سے ماجود ہوتا اور ہماری ٹورازم کی صنعت کو پروان چھاڑاتا


اگرآپ کوپتنگ بازی کا شوق ہیں توآپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ گورنمنٹ نے اس سال بسنت کو منانے کا حکم دے دیا ہیں اوراس سال لاہوراور پنجاب والے پتنگ بازی کریں گے. جوکہ ایک خوش آیںد بات ہیں اورایک اچھا فیصلہ ہو سکتا ہیں.یہ فیصلہ خوش آیںد ہو سکتا ہیں اگر ہم عوام پتنگ بازی میں ایک خاص دھاگہ جو کسی زمانے صرف پتنگ کے لیا استعمال ہوتا  تھا وہی کریں اور وہ جان لیوا جسے کیمکل دھاگہ بولتے  ہیں  اس کو نہ استعمال کریں اوراب گورنمنٹ کو بھی اب پتنگبازی کے قواعد و ضوابط  مراتب کریں.تو کوئی وجہ نہیں کہ بسنت پھر سے ایک  کامیاب تہوار کے طور پر لاہوراور پاکستان کو دنیا میں متراف کروادے .یہ صرف ممکن ہیں اگر ہم عوام اور گورنمنٹ مل کر اسے کامیاب  کریں .اس سے ہماری بہت سی انڈسٹریزچلنا شروح ہو جائیں گی اور اس سے ہماری ٹورازم انڈسٹری بھی آگے بڑھے گی

Tuesday, 18 December 2018

مکیش امبانی ایک رول ماڈل















  مکیش امبانی ایک رول ماڈل

 
ریلائنس کمپنی کا نام بہت بار سنانے کو ملا ہندستان کے مختلف ٹی وی چینلزپرلیکن کبھی یہ جانے کی کوشش نہیں کی کہ اس کا مالک کون ہیں.یہ کیا کام کرتے ہیں ان کے کاروبار کی نوعیت کیا ہیں پھر ٢٠١٠ میں  تعلیم کے لیے انگلستان جانے کا اتفاق ہوا.انگلستان  کی ایک سرد صبح جب لیکچرہال پہنچا تو استاد نے ایک کیس اسٹڈی دیا جوکے دھیرو بھائی امبانی کی ریلائنس کمپنی کے بارے میں تھا.گھرآ کر جب گہرائی میں پڑھا. میں تودھیرو بھائی امبانی کی کاروباری جدوجہدسے کافی متاثر ہوا.ایک انسان جب کسی کام کی ٹھان لیتا ہیں توکامیابی پھراس کا نصیب بن جاتی ہیں.یہ سنا تھا پردھیرو بھائی امبانی کی کاروباری کہانی اس بات کو حقیقی روپ دیتی ہیں. دھیرو بھائی امبانی نے  سترہ سال کی عمر میں کلرک کی نوکری کی اور پھرکچھ ہی عرصے میں چھوڑ کر واپس ممبئی آ گۓ .١ ہزار روپیہ سے ایک کاروبار شروع کیا.١٩٧٥ میں ریلائنس  کمپنی بنائی .دھیرو بھائی امبانی صرف ٢٧ سال کی محنت نے ریلائنس  کودنیا کی ٹاپ ١٠٠ کی لسٹ میں لے آے .اور امبانی صھاب ایشیا  کے ٹاپ ٥٠ کاروباری آفراد کی لسٹ میں جگہ بنا لئ . ٢٠٠٢ میں دھیرو بھائی امبانی اس دنیا سے رخصت ہوۓ تو ریلائنس کمپنی کی  مالیھیت ٦ ارب ڈالرز تھی.کمپنی کے چلانے کے لیے  امبانی کے بڑھے بیٹے مکیش امبانی آگے آے اور کمپنی کو سنبھلا 

.مکیش امبانی نے بزنس اسٹڈیز میں ماسٹرز ڈگری امریکا سے حاصل کی. اور کم عمری میں  اپنی ہی کمپنی میں کام شروع کیا.ریلائنس  کمپنی  نے شروع میں رفیننگ ،پیٹروکیمیکل ،تیل اور گیس کے شبہ میں کام کر رہی تھی .مکیش امبانی  نے کاروبار کوپھیالا اور ٹیلی کمیونیکشن میں بھی انویسٹمنٹ کی.٢٠١٦ صرف ١٥ سال میں ریلائنس  کمپنی انڈیا کی ٹاپ ٥  کمپنی لسٹ میں آ گیئ .آج  مکیش امبانی انڈیا کا نمبر ایک امیر انسان ہیں اور ایشیا کا ٤٣ نمبرامیرانسان ہیں.آج ریلائنس  کمپنی کی مالیت ٦٠بلین$ ہیں.دھیرو بھائی امبانی کامیابی کے  لیا محنت، سخت خطرناک فیصلوں پر یقین رکھتے تھے جب کہ مکیش امبانی وقت پرکام کو ختم کرنے پر یقین رکھتے ہیں یہی ان  کی کامیابی کا راز ہیں.آج کے ہندوستاں  کی معیشت کو مضبوط بناںے میں ریلائنس  کمپنی کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا  جا سکتا ہیں کہ جو گیس کا یونٹ ٨$ میں لگتا ہیں وہ یہ کمپنی ١$ میں فراہم کرتی ہیں.اسی ہفتے مکیش امبانی کی بیٹی کی شادی ہوئی جو دنیا کی دوسری مہنگی ترین شادی میں گنی جاتی ہیں .امبانی خاندان تیسری دنیا کے کاروباری افراد کے لیا ایک رول ماڈل ہیں جوامنداری سے کاروبار کر رہے ہیں اور ملکی ترقی کے لیا اپنا سرمایہ  کم کر کے معیشت کو مضبوط بنا رہے
 

Sunday, 16 December 2018

چوٹی سی بات












عدالت انصاف  جلدی کرو

    چوٹی سی بات


ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن  پچھلےایک سال سے چیف جسٹس کے کمرہ عدالت میں لٹکا ہوا ہیں .بحریہ ٹاؤن پر ناجائز زمین کےقبضہ اورتعمیرات کا الزام  ہیں.آج ایک طرف ملک ریاض کا کیس ہے اور دوسری طرف اسی عدالت نےایک اوراس جیسے کیس میں آج کے پرائم منسٹر جناب عمران خان کوان کےغیر قانونی گھرکو تھوڑے سے جرمانہ دینے پرلیگل کردیا. دوایک جیسےکیسزمیں مختلف فیصلے پاکستانی عدالتی نظام کی مضبوطی کا خاکہ پیش کر رہے ہیں .بحریہ ٹاؤن جس کو ملک ریاض اور انتظمیاں پچھلے ٢٣ سال سے کامیابی سے چلا رہے ہیں.بحریہ ٹاؤن اب ملک ریاض کا ہی نہیں بلکہ یہ اب ایک ادارہ ہیں ایک  برانڈ  ہیں.جس میں پاکستان اور پاکستان سے باھر رہنے والوں کا سرمایا  لگا ہوا ہیں جو ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ دال رہا ہیں. بحریہ ٹاؤن میں لاکھوں لوگ کاروبار کر رہے ہیں .ان میں کافی جاب پیشہ بھی ہیں.اب اگر عدالت یا گورنمنٹ کے پاس اتنے ذارئع ہیں کہ وہ ان لوگوں کوجابزدیں گی .بقول عمران خان کے وہ ٥٠ لاکھ گھر دیں گے پانچ  سالوں میں .جناب جو گھر دیں رہا ہے  اسے تو کام کرنے دیں.باقی رہی  بات ناجائز زمین کی تو اسکا ذمہ دار کیا صرف ملک ریاض ہیں.اور بھی  لوگ ہو گے.تو صرف توپوں کا رخ صرف ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن میں رہنے والے پر ہی کیوں .کیا جب یہ سب ہو رہا تھا اس وقت ریاست سو رہی تھی.اگر ملک ریاض  قصوروار ہیں تو پھر ریاست کی اور اس وقت کے لوگ بی ذمہ دار ہیں .اگر ایک ناجائز  قبضہ والے بنی گلہ کے گھر کو لیگل کیا جا سکتا ہیں تو ایک بحریہ ٹاؤن جس میں پاکستانیوں کا پیسا لگا ہوا ہیں اسے کیوں نہیں..کیوں لوگوں کی روزی  کو بند کی جا رہا ہیں .کیا میسج  دیا جا رہا ہیں نیا کاروبارکرنے والوں کو.کہ ان کوبھی ملک ریاض بنا دیا جانے گا.اگر بقول عدالت کے بحریہ  ٹاؤن میں اتنا گپلا ہیں تو باقی ہاؤسنگ پروجیکٹس میں کیا ہو رہا ہو گا .ضرورت اس بات کی ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے کیسز کو جلد سے  جلد کلیر کیا جائیں نہ کے تاریخ پر تاریخ اس کا نقصان پاکستان کی ریل اسٹیٹ انڈسٹری کو ہو رہ  ہیں.کچھ خیال کیا جانے   

Saturday, 15 December 2018

جمہوریت

Democracy 😍


حاجی شکور صاحب کے بڑے بیٹے کا بیان ہے کہ میرا یقین تو جمہوریت سے سنہ 1988 ہی میں اٹھ گیا تھا۔
کہنے لگا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایک جمعرات کو میں اور میرے باقی تینوں بہن بھائی، امی ابو کے ساتھ مل کر رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ ابا جان نے ہم سب سے پوچھا: بچو، کل تمھارے چچا کے گھر چلیں یا ماموں کے گھر۔


ہم سب بہن بھائیوں نے بہت شور مچاکر چچا کے گھر جانے کا کہا، ماسوائے امی کے جن کی رائے تھی کہ ماموں کے گھر جایا جائے۔
بات اکثریت کے مطالبے کی تھی اور رائے شماری سے طے پا گیا تھا کہ چچا کے گھر جانا ہے۔ امی کا موقف ہار گیا تھا۔ ابا جان نے بھی ہماری رائے کے احترام میں چچا کے گھر جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ ہم سب بہن بھائی چچا کے گھر جانے کی خوشی دل میں دبائے جا سوئے۔


جمعہ کے دن صبح اٹھے تو امی نے گیلے بالوں کو تولیہ سے صاف کرتے ہوئے بمشکل اپنی ہنسی دبائے انھوں نے ہمیں کہا کہ سب جلدی سے کپڑے بدلو، ہم لوگ تمھارے ماموں کے گھر جا رہے ہیں۔

میں نے ابا جان کی طرف دیکھا جو خاموش اور توجہ سے اخبار پڑھنے کی ایکٹنگ فرما رہے تھے۔ میں غریب کا بال منہ تکتا رہ گیا۔
بس جی، میں نے تو اسی دن سے جان لیا ہے کہ جمہوریت، اکثریت کی رائے کا احترم اور ووٹ کو عزت دو وغیرہ تو ایک سے ایک ڈھکوسلہ ہے۔ اصل فیصلے تو بند کمروں میں اس وقت ہوتے ہیں جب غریب عوام سو رہی ہوتی ہے

Saturday, 5 August 2017

انتقام کی سیاست

انتقام کی سیاست



انگلستان کی سابقہ اورآئرن لیڈی کےنام سے جانی جانے والی وزیراعظم لیڈی مارگریٹ تھچیر کا کہنا ہیں .جب آپ کے سیاسی حریف آپ کو سیاست کے میدان پر نیچا نہ دکھا سکے تو پھر وہ آپ کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی شروع کر دیتے ہیں.ایسی صورت حال کا شکار آج کل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان ہیں جن کے حریف  پاکستان مسلم لیگ ن آج کل انہے سیاست کے میدان میں نہ اہل  کرنے کے لئے بھر پورکوشش کررھے.پہلے بنی گلہ گھر کے معاملے پر اوراب ایک اور خاتون کے ذریعہ خان صاب کو نچا دکھنا کےلئے  دن رات ایک کیا ھوا ہیں.نواز شریف بما اپنے بچوں کے نا اہل ہو چکے ہیں.بدلہ لینےاورحریف کواپنی انا کا مسلہ بنا لینے میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں . بے نظیراورنصرت بھٹوکا وقت اورنواز شریف کا ان سےانتقام کوئی عوام سے چھپی بات نہیں اورآج کل تو جممامہ گولڈ سمتھ  بھی ایک سوشل فرُرم ٹویٹر پر اپنی راہے کا اظہار کر چکی ہیں.عمران خان کی ذات پر تازہ لگا الزام اور ن لیگ کا حد سے بڑھ کر متحرمہ کا ساتھ دینا شک میں ڈال رہا ہیں.جوایک سوچی سمجی سازش لگ رہی ہیں.اوراگردیا ہوا ثبوت دکھا جانے توایک پارٹی کا دعوت  نامہ ھی تھا. خیر ہر انسان کی ذاتی زندگی  بھی ہیں جس کے جینے کا اسے حق ہیں دوسری جانب ن لیگ کے کچھ حضرات سے گزارش ہیں کے جناب پاکستان میں ایسی بے شمار خواتین ہیں جن کے ساتھ برے سلوک ہوۓ ہیں.انھےانصاف دلانے.اور رہی بات پی ٹی ائی کی خاتون رکن کی تو وہ پڑھی لکھی ہیں.اپنا انصاف قانون سے لے سکتی ہیں .اگربات کی جاۓ عمران خان کی سیاست کی تو وہ ایک لیڈر کے طور پرہمارے سامنے ہیں .جسطرح وہ کرپشن  کا کیس لڑے . اور  نواز شریف  کی کرپشن کو عوام کے سامنے رکھا.پاکستانی قوم کو ان کا شکر گزار ہونا چاھیے.جس انسان  نے عوام کواپنے حق کےلئے لڑنا سیکھایا. ایک انسان کے ناطے اگر حکمران غلط ہیں اپنے اختیار کا غلط استعمال کررہے ہیں تو عوام کو حق ہیں کہ وہ ان وضاحت  طلب کرے .چایا وہ نواز شریف ہو یا عمران خان .رہی بات ذاتی زندگی کی وہ اسے اپنے طور طریقے سے گزارنے میں آزاد ہیں  .

Wednesday, 26 July 2017

تم بھی چور

 تم بھی چور


پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بہت سارا وقت  آمرہت کے زیرے اثر رہا .مگر جب  بھی جہموری حکمتوں کو موقع ملا انھوں نے خوب کرپشن کی.١٩٩٠ کی دہائی میں یہ کام اپنےعروج پررہا.پاکستان مسلم لیگ ہویا پاکستان پیپلزپارٹی سب نے خوب قرضے لئے اور دل بھرکر کرپشن کی.دونوں پارٹیزکی دو دوبارحکومت گری پی پی پی کی حکموت میں آصف علی زرداری پرالزام لگے. جس کی تحقیق نواز شریف کی دور میں ہوئی اورنوازشریف کو جب بی موقع ملتا وہ عوام کے سامنے خوب زرادی کو ننگا کرتے.اور اسی طرح پی پی پی کی باری بھی نواز شریف کے خلاف تحقیق ہوتی .جس کی مثال آپ سوشل میڈیا یو ٹیوب پر رحمان ملک کی تحقیق کے نام سے دیکھ سکتے ہیں.پھر ٢٠٠٧ میں ایک وقت ایسا بھی آیا. کہ دونوں نے جموریت کے نام پر صلح کرلی لیکن.پھر مرکزاور پنجاب میں پی پی پی اور نواز لیگ نے مل کر حکومت کی. یہ سلسلہ کچھ ہی دیرچلااورپھرالزام بازی شروع ہو گیی.پھردونوں نےایک دوسرے کو چوربولناشروع کردیا اورایک دوسرے کے خلاف کیسز کھولنے کی دہمکی دی.اب یہ سلسلہ پی پی پی کے خلاف تورک گیا کیوں کہ وہ آج کل عوام میں اپنا اثررسوخ کھو چکے ہیں اورنواز لیگ نے اپنی توپوں کا رخ عمران خان کی طرف موڑ دیا.بقول نوازلیگ اور ساتھی کہ اگر ہم پر کرپشن کے الزام لگا رہے ہو تو تم بھی چور ہوں.وہی ٩٠ والی کہانی اگر ہم چور ہیں تو تم  بھی چور ہو کا ڈرامہ اب عمران خان کے ساتھ بھی لیکن اس بار یہ فارمولا ذرا ناکام  لگ رہا ہیں.کیونکےعمران خان نے پاکستان میں نہ کوئی نوکری کی اورنہ ہی کبھی وزیر رہے.باقی اگر بات ہیں زمان ہاؤس اور بنی گلہ کے گھر کی جس کا الزام ہیں کہ پیسا کہاں سے آیا.تو یہ کوئی ڈکی چھپی بات تو ہیں ہی نہیں .بطورکھلاڑی عمران خان نے اکیس سال کرکٹ کھیلی ملک کے لیا اورانگلینڈ اورآسٹریلیا کے  کلبز کے لیا بھی.مزید اگر پاکستانی عوام نا آشنا ہیں تو ان کےعلم میں اضافہ کرتا چلو کہ ١٩٧٠ اور ٨٠ کی دہائی تک عمران خان انگلینڈ میں کرکٹ کے ساتھ بہت سی پرڈکٹس کے لیا ماڈلنگ بھی کرتے رہے ہیں..سٹار ٹی وی  کےمطابق ادارہ نے  صرف ٢٠١٤  ٹی t٢٠ ورلڈ کپ میں  چالیس منٹس کے چار  کروڑعمران خان کو ادا کیے تھے.جو عمران خان ضرورعدالت میں ظاہرکرے گے. چناچے نواز شریف  اور گروپ کا تم بھی چور والا ڈرامہ عمران خان کے خلاف  کامیاب ہوتا ہوانظر نہیں آ رہا .

Thursday, 20 July 2017

بڑے میا ں سبحان الله

بڑے میا ں سبحان الله 


اس معصوم سی شکل والے انسان کی معصومہت پر کوئی کیوں  نہ قربان جاے. جو کہنے کو توپاکستان کا سربراہ ہیں. لیکن حالت اس کنواری لڑکی سے بھی برتر ہیں جسے یہی نہیں پتا کہ اس کا بیا ہ ہورہا ہیں اوروہ بھی کس سے .منی لانڈرنگ کیس میں مطلوب شریف خاندان کا ہرفرد کمیشن میں پیش ہونےکےبعد میڈیا پریہی  سوال کرتا ہیں کہ پتا نہیں ہمارا قصورکیا ہیں.ان کودیکھ کرایسا لگتا ہیں کہ کتنے  معصوم لوگ ہیں اورعوام میڈیا اور ظالم قانون بلّ وجہ شریف خاندان کوتنگ کر رہے ہیں .پانامہ کا کیس ہو یا کوئی عوامی مثلا نواز شریف ایسی معصومہ بات کرتے ہیں کے الله کی پناہ.کبھی بھرے مجمے میں آلوپانچ روپےکلو کردیتے ہیں اور کبھی پچاس برس کا انسان  انھے ١٨ سال  کا نوجوان لگنے لگتا ہیں.آج کل  سارا خاندان کو یہی نہیں پتا کہ عدالت میں پیشی کی وجہ کیا ہیں جبکے جناب دو دففہ ٹی وئی پر اپنے آپ کو بمہ خاندان معصوم قراردی چکے ہیں .اب ٹی وئی پرآ کرپتا نہیں عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں یا واقع  ہی معصوم ہیں اس بات کا فیصلہ یا توقانون کرے گا یا پھر خدا.عوام بے چاری  پانچ سال جب ووٹ دیتی ہیں توووٹ بی بدل دیا جاتا ہیں .دوسری بات یہ کہ ابھی تک یہی واضح نہیں ہورکہ ہا کہ پاناہ کیس نوازشرف خاندان کا ہیں یا نوازگورنمنٹ کا.ہرروزوفاقی وزرا میڈیا  پرآ کر ایسے چیخ وپکارشروع کر دیتے  ہیں جیسے خود ملوث ہو .پانامہ کا فیصلہ کچھ بھی ہو لیکن عمران خان نے وہ سب ممکن کر دیا جو کہ ایک بددینت  معاشرے میں نا ممکن لگ رہا ہیں .اوراب احتساب سب کا ہونا لازم ہیں

Friday, 14 July 2017

نظام اور فرد واحد

نظام اور فرد واحد   









دنیا میں قبرستان ایسے انسانوں سے بھرے پڑے ہیں.جن کا خیال تھا کہ یہ دنیا ان کےعلاوہ نہیں چل سکتی.مگرافسوس وہ سب اسی زمین میں دفن ہیں اور کاینات رواں دواں ہیں. یہی حال کچھ پاکستان میں ہماری لاڈلی سیاسی پارٹی مسلم لیگ نواز کا بھی ہیں.جن کا خیال ہیں کہ کوئی اگران کی پارٹی کے سربرا پرانگلی بھی اٹھا دے تو ہماری لاڈلی گورنمنٹ کوغیرسیاسی قوتوں سے خطرہ لاحق ھو جاتا ہیں.اور وفاقی وزاره  میز لگا کر ٹی وی پر جہموریت کوخطرہ ہیں کے راگ لاپنا شروع کردیتے ہیں.شاید پاکستان میں گنگا الٹی بہتی ہیں.اورنظام کو کسی ایک فرد کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہیں اور آخروہ واحد فرد نظام کو ہی لے ڈوبتاہیں .ایسا پاکستان کی تاریخ میں کہی بار ہو چکا ہیں.وہ چاھےپاکستان پیپلز پارٹی میں ذولفقارعلی بھٹو ہوں، بے نظیر ھو یا نوازشریف.قصورکسی ایک فرد کا ہوتا ہیں اور خمیازہ  نظام کو اٹھانا پڑتا ہیں .اور پاکستان میں جہموری نظام کی کمزوری  کی یہی وجہ ہیں.ہر بار قصوروار کوئی ہوتا ہیں اور متاثرنظام ہوتا ہیں مگروہ فرد جو ذمہ دارہوتا ہیں کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا.اس کی ایک واضح مشال آج کی پاکستانی سیاسی تاریخ میں نواز شریف ہیں.وہ قانون اورعوام کی نظر میں اپنے صادق اورامین ہونے کا اعتماد کھو چکے ہیں .لیکن با ضد ہیں کہ عوام نے ان کو بھاری ووٹ سے منتخب کیا تھا .تو جناب وہ بھی آپ کی بدیانتی  تھی جو آپ نے الیکشن کمیش سے چھپا کر رکھی اور سال ٢٠١٦ میں ایک غیر ملکی نیوز میں سامنے آئی.مسلم لیگ نواز میں سیاسی سوج بھوج کا فقدان لگ رہا ہیں جو نواز شریف کو فرد کی بجا ہے نظام سمجھ رہے ہیں. جو کہ ان کی سیاست سی نا آشنا ہونے کی ایک واضح دلیل ہیں.جب کہ آج سے پانچ  سال پہلے پاکستانی  پیپلز پارٹی نے سیاسی عقلمندی سے کام لیتے ہوۓ سپریم کورٹ  کے حکم پر اپنا ایک سربراہ تبدیل کرکے جہموری نظام  کو مَفلوج ہونے  بچایا تھا.اور جہموری نظام کے تسلسل کو جاری رکھنے کی مثال قایم کی.یہ دنیا ایک نظام کے تحت چل رہی ہیں اور انسان اسی نظام میں اپنا حصہ ڈال کر نظام کامیاب  بنا رہا ہیں.

Friday, 7 July 2017

ڈوبتی ثقافت

 ڈوبتی ثقافت


متحدہ ہندوستان کوئی ایک ہزار سال سے مختلف مزاہیب اوراقوام کا مرکز رہا اور آج بھی کہی مزاہیب اور اقوام کے لوگ آباد ہیں .یہ لوگ  اپنےمختلف رسمورواج  کے مطابق زندگی بسرکررہے ہیں اوراپنے مختلف تہواراپنے وقت پر اپنےانداز سےمناتے ہیں .تقسیم کےبعد پاکستان میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا.مختلف مذہبی  اورثقافتی تہوارجیسےکہ میلے، بسنت اور مختلف علاقائی کھیل شامل ہیں. یہ عنوان لکھنےکا مقصد یہ باورکروانا ہیں کہ آج کے دور میں دنیا سمٹ رہی ہے .اقوام میں فرق کم ہو رہا ہیں . جس کی وجہ سےدنیا کی دوسری اقوام کی ثقافت کو اپنانا اوراپنے ورثہ کو بھول جانا قابل ذکرہیں.ایسی اقوام اپنا مقام دنیا میں کھو دیتی ہیں کیونکے لوگ دوسری قوم کے لوگوں کوان کے تہذہبی ورثہ سے پہچانتے   ہیں .پاکستانی میں گزشتہ کچھ سال سے یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہیں. جب کے کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے یہ کام جارہی رکھے ہوۓ ہیں

ایک وقت تھا جب پاکستان میں پتنگ بازی کا تہوار دنیا بھر میں مہشورتھا اور لاہورمیں ہرسال مارچ کے مہینے سیاح دنیا کے مختلف ممالک بل خصوص یورپ،  انگلینڈ،امریکا اورکینیڈا شامل ہیں سے یہ تہوار منانےآتےتھےاورآج یہ تہوار حکموت پنجاب کی غلط اورناکام انتظمیہ کی غلفت کی وجہ سے پیچھلے کوہی دس سال سے منسوح ہو چکا ہیں .اسی  طرح گلگت اور چترال میں شندور فسٹیول بھی حکو مت کی لاپروائی کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں. پاکستانی میں ثقافتی سرگرمی کے زوال اورکمی کی ایک بڑی وجہ ملک میں جاری دشتگردی بھی ہیں .لکین اس سے دوری ہماری موجودہ اورآنے والی نسل کواپنی تہذیب سے نا آشنا کر رہی ہیں  

Thursday, 6 July 2017

المیہ فکر


المیہ فکر


یہ تصویر پاکستان میں نظام عدل اورقانون کو سمجنے لیے ایک واضح مثال ہے.جس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہے .کس طرح قانون کی رکھوالی ایک ملزمہ کو تحفظ دیتی ہیں.قانون کے  محافظ خود قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اورایسا سال ہاہ سال سے ہوتا چلا آ رہا ہیں .پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسے ملک کا قھیام.جہاں عدل و انصاف کا راج ہونا تھا.وہاں  قانون کے رکھوالے الٹا قانون کی خلافورزی کرنے والوں کو سیلوٹ اور سلامیا دی جا رہی ہے.گزشتہ دن اسلام آباد کی ایک وومن پولیس نے مریم صفدر نوازکوشاید اس لیے سلامی دی کہ وہ جناب نواز شریف  کی لاڈلی دخترتھی. اور وہ شاید کبھی ملک کی ویزراعظم  بن جائیں .لیڈی پولیس شاید یہ بھول گیی تھی کہ وہ ایک ملزمہ  کو سلام دے رہی ہے  جواپنےاوپرلگےالزام کا جواب دینے جے آئی ٹی میں  پیش  ہو رہی تھی.اس واقعے سے ایسا لگ رہا ہیں کہ وہ پولیس والی اپنے  ادارے کے قانون و قواعد سے نا آشنا  ھو اور  شاید  افسران بالا بھی جن کی اتنی  ہمت بھی نہ ھو سکی کہ متحرمہ سے پوچھ سکے کہ پولیس کے آیین  کی کون سی شق اسے اس  بات کی  اجازت  دیتی ہیں .اس  حرکت سے با خوبی معلوم  ہو رہا ہیں کے پولیس  شاید حکمران  خاندان کی ذاتی ملازمہ ھو نہ کہ عوام کی.

  ادارے جو کسی فردواحد کے لئے اپنے اصول تک بھول جاتے ہیں وہ ملک و قوم کا تحفظ کیسے کر سکے گے.پولیس ادارے کو اس بات کا نوٹس لینا ہوگا اور پاکستانی عوام کو واضح کرنا ہو گا .کہ ان کے ادارے  کی قابل متحرمہ سے کیوں یہ غلطی سرزرد  ھوئی.ایسی غلطی نہ صرف عوام کی توہین ہیں بلکہ پولیس کے ادارے پربھی ایک سیاہ دھبا ہیں جو ایمان دار افسروں کی تویین ہیں









Sunday, 2 July 2017

کفر ٹوٹا الله الله



    کفر ٹوٹا الله الله


پاکستانی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ  میں اوول کے گراؤنڈ پر ہندوستان کی کرکٹ ٹیم  کو ایک طرفہ مقبالے  میں ہرا دیا.پاک نوجوان پلیئرز بڑی بہادری سے میچ میں کھیلے .خاص کر  فخر زمان عامر،شاداب خان اور، حسن علی کا کھیل تعریف کے قابل تھا.کپتان سرفراز احمد کی خوبصورت اورمتاثر کن  کپتانی بھی  دیکھنےکو ملی .جیسے وہ بولتے ہیں نہ صیح   وقت  پر صیح  فیصلہ لینا.جن میں وہاب اور احمد شہزاد کو نہ کھیلانا  تھا.جو پاکستانی ٹیم کے لیا اچھا ثابت ہوا.اور  پھر پاکستانی پلیئرز کو پھلا میچ ہارنے کے بعد  دوبارہ  اکٹھا کرنا تعریف کے قابل تھا.

پاکستانی ٹیم کی جیت  پر پوری قوم میں جیسے ایک جان سی آ گی ہو.ایسے دلچسپ مناظر پاکستان ، انگلینڈ اور جہاں جہاں پاکستانی مداح موجود تھے خوب جشن منایا گیا .دوسری طرف ہندوستان کی ٹیم جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مقابلے میں ایک مضبوط ٹیم تھی جو پہلے بولنگ اور پھر بیٹنگ میں بری طرح ناکام ہوئی.انڈین میڈیا اورہندوستان کے سابق پلیئرزکااندھا اعتماد ان کی ٹیم کو لے ڈوبا.جو میچ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی ٹیم کی جیت کا جشن منانے میں لگ گۓ تهے اور اپنےٹی وی  پروگرامز میں اپنے آرٹسٹ  کے ساتھ  پاکستانی ٹیم کی کمزوری کا مذاق سونگس اورپروڈیس بنا بنا کراڑہا رہے تهے.پاکستانی ٹیم میں جس طرح نوجوان پلیئرز نے کرکٹ کھیلی اس کا سہرا سلیکشن  کمیٹی ،کوچ ، کپتان اورخاص کرپاکستان سوپرلیگ کو جاتا ہیں جہاں سے  ہمہیں اچھے اورمحنتی کرککیٹرس مل رہے ہیں اور ملتے رہے گے .جس کا ایک اچھا اثر ٹیم کی پرفارمنس میں دیکھنےکوملےگا .

اب ہم سب کے ذھنن میں ضرورایک بات  آتی ہوگی کہ ہماری کرکٹ ٹیم ائی سی سی ایونٹ میں عظیم عمران خان، جاوید مینداد، وقار، وسیم اکرم ،انضمام الحق،  شعیب اختر اور شاہد آفریدی  کے ہوتے ہوۓ نہ جیت سکی .تو جناب وجہ یہ تھی کہ وہ سب کرکٹ کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر اداکاری بھی کرتے تھے.کبھی شیمپو کبھی پیپسی کبھی فون اور کبھی آئس کریم بچتے  تھے کرکٹ میں تو پرفارم کبھی کبھی کرتے تھےمیچ  کا دباؤ کیسے برداشت کرنا ہیں  شاید سیکھا ہی نہیں اور نہ ہی لگتا ہیں کوشیش کی گیی هو